{"product_id":"zikar-kuch-mukhtalif-kitabon-ka-thkr-kch-mkhtlf-ktabo-ka","title":"Zikar Kuch Mukhtalif Kitabon Ka - ذکر کچھ مختلف کتابوں کا","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages: \u003c\/strong\u003e360\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eCategory: \u003c\/strong\u003eHistory Books\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv align=\"right\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x14z9mp xat24cr x1lziwak x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\" style=\"overflow-wrap: break-word; white-space: pre-wrap; margin-top: 0.5em; margin-inline: 0px; margin-bottom: 0px; font-family: 'Segoe UI Historic', 'Segoe UI', Helvetica, Arial, sans-serif; color: rgb(8, 8, 9); font-size: 15px; font-style: normal; font-variant-ligatures: normal; font-variant-caps: normal; font-weight: 400; letter-spacing: normal; orphans: 2; text-align: start; text-indent: 0px; text-transform: none; widows: 2; word-spacing: 0px; -webkit-text-stroke-width: 0px; background-color: rgb(255, 255, 255); text-decoration-thickness: initial; text-decoration-style: initial; text-decoration-color: initial;\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eادب میں غلط بخشیوں، جعل سازیوں، غلط منسوبات اورسرقوں کی داستانیں جابجا بکھری پڑی ہیں۔ کچھ کتابیں ایسی ہیں ، جنہیں لکھا کسی گم نام مصنف نے ہے اور انھیں کچھ نامور مصنّفین نے خود سے منسوب کرلیا ہے۔ کچھ کتابیں نامور مصنّفین نے فرضی یا قلمی ناموں سے لکھی ہیں، کچھ باضابطہ سرقے کے ضمن میں آتی ہیں، اس کتاب میں ایسی متعدد کتابوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eاردو زبان میں کتابوں کے مصنّفین کے غلط انتسابات کے تعلق سے شعبہ اردو سندھ یونیورسٹی نے 1996-97ءمیں اپنے شعبہ جاتی تحقیقی مجلے ”تحقیق“ کے دو شمارے مشترکہ طور پر پیش کیے تھے۔ اس شماروں کوڈاکٹر مصطفی خان، مسز رابعہ اقبال اور ڈاکٹر نجم الاسلام نے مرتب کیا تھا۔ہمارے علم کی حد تک یہ اردو میں اپنی نوعیت کا واحد کام ہے جس میں بہت سی عربی، فارسی، اردو اور سندھی کتابوں کے بارے میں تفصیلات بہم پہنچائی گئی ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eاس مجلے میں ڈاکٹر خلیق انجم کا ایک تحقیقی مضمون ”غلط انتسابات کے اسباب ووجوہ“ شامل ہیں جس میں ان انتسابات کے اسباب ووجوہ پر تفصیلاً روشنی ڈالی گئی ہے اور ان کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003e............٭٭٭............\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eاردو شاعری میں سرقہ، توارداور استفادہ ایک علیحدہ شعبہ ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eاساتذہ فن کے زمانے میں مصرع طرح پر غزلیں لکھنے کا رواج عام تھا، چنانچہ ہم عصر شعرا جب مصرع طرح پر طبع آزمائی کرتے تھے تو معاملہ توارد سے بڑھ کر سرقے تک جا پہنچتا تھا۔ مصحفی اور انشا کی بہت سے غزلیں یکساں ہیں، امیر مینائی اور داغ کی کئی غزلوں میں ایک جیسے اشعار موجود ہیں۔ خود ہمارے زمانے میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں مثلاً جون ایلیا اور عدیم ہاشمی کے یہ دو اشعار دیکھئے:\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eبہت نزدیک آتی جارہی ہو\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eبچھڑنے کا ارادہ کرلیا کیا\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003e(جون ایلیا)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eبہت نزدیک آتے جارہے ہو\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eبچھڑنے کا ارادہ کرلیا کیا\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003e(عدیم ہاشمی)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003e............٭٭٭............\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eاردو کے مشہور ادبی جریدے ”مہر نیم روز“ نے 1950-60ءکی دہائیوں میں سرقے کی زد میں آنے والی متعدد تصانیف کے خلاف ادبی سراغ رساں کے قلمی نام سے ایک باقاعدہ مہم چلائی تھی اور اردو کے صف اول کے ادیبوں کے سرقوں کو بے نقاب کیا تھا۔ یہ تمام مضامین کچھ اضافوں کے ساتھ شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ ،جامعہ کراچی نے اپنے ادبی رسالے ”جریدہ“ کے ایک خاص نمبر اور بعدازاں کتابی صورت میں شائع کردیئے ہیں۔ 1968ءمیں میزان الادب لاہور سے ممتاز لیاقت کی کتاب ”بکف چراغ دارد“ شائع ہوئی جس میںچند نامور ادیبوں کے سرقوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔2019ءمیں ہندوستان سے شائع ہونے والے ادبی جریدے ”اثبات“ نے بھی اسی نوعیت کا ایک خاص نمبر شائع کیا۔ڈاکٹر نذر خلیق نے ”اردو ادب میں سرقہ اور جعل سازی کی روایت“ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق احمد کی نگرانی میں مقالہ تحریر کرکے اسلامیہ یونیورسٹی، بہاولپور سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ انہوں نے اپنے اس مقالے میں سرقہ شدہ کتابوں اور تحریروں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ پی ایچ ڈی ، ایم فل اور ایم اے کی اسناد کے حصول کے لیے لکھے گئے بعض ایسے مقالوں کا ذکر بھی کیا جو سرقے کی زد میں آتے ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003e............٭٭٭............\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eاس نوعیت کے واقعات صرف اردو دنیا تک محدود نہیں بلکہ عالمی ادب میں بھی اس کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ ایک واقعہ سنتے چلیے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003e”گزشتہ دنوں اسپین میں ایک ادبی تقریب میں اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہوگئی جب کارمن مولا نامی ایک خاتون مصنفہ کو سنسنی سے بھرپور ناول ’لا بیستیا‘ (درندہ) پر دس لاکھ یورو انعام دینے کا اعلان کیا گیا لیکن وہ انعام لینے کے لیے تین مرد اسٹیج پر آگئے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eخبر کے مطابق، اس سال اسپین میں ’2021 پریمیو پلینیٹا‘ ادبی انعام کا حقدار کارمن مولا نامی ایک خاتون کو قرار دیا گیا جس کی مالیت 10 لاکھ یورو یعنی 30 کروڑ پاکستانی روپے کے لگ بھگ بنتی ہے۔ تاہم جب تقریب میں خاتون کا نام پکارا گیا تو اسٹیج پر تین ادھیڑ عمر مرد پہنچ گئے جن کے نام آگسٹین مارٹینیز، ہورگے ڈیاز اور اینٹونیو مرسیرو بتائے گئے ہیں جو اسپین میں ٹی وی ڈراموں اور فلموں کے لیے اسکرین پلے لکھتے رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کارمن مولا کا کوئی وجود نہیں بلکہ وہ تینوں ہی اس خاتون کے فرضی نام سے ناول نگاری کرتے ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eبتاتے چلیں کہ ناول ’لا بیستیا‘ کی کہانی 1834ءمیں ہیضے کی عالمی وبا کے گرد گھومتی ہے جس کا آغاز 1817ءمیں ہندوستان سے ہوا، جو 1837ءتک مرحلہ وار جاری رہی اور یورپ سے لے کر امریکا تک پھیل گئی۔ ہیضے کی اسی وبا کے باعث مختلف یورپی ممالک میں بدترین حالات پیدا ہوئے اور نوبت خانہ جنگی تک پہنچ گئی۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eانعام پانے والے تینوں مرد مصنّفین کارمن مولا کا مشترکہ فرضی نام اختیار کرنے سے پہلے اپنے اصل ناموں سے الگ الگ لکھا کرتے تھے اور ٹی وی سیریز ’سینٹرل ہاسپٹل‘ کے علاوہ ’بلائنڈ ڈیٹ‘ کے اسکرپٹ پر بھی کام کرچکے تھے۔ مارٹینیز، ڈیاز اور مرسیرو آپس میں دوست بھی ہیں اور اپنی اصل شناخت چھپاتے ہوئے ایک خاتون کے مشترکہ فرضی نام سے لکھنے کا فیصلہ انہوں نے چند سال پہلے کیا تھا۔ نام کے ساتھ ساتھ انہوں نے کارمن مولا کو ایک منفرد شناخت بھی دی تاکہ لوگوں کو اس کے وجود پر یقین ہوسکے۔ ناولوں میں بتایا گیا کہ کارمن مولا ایک 40 سالہ خاتون پروفیسر ہیں جو اسپین کے شہر میڈرڈ میں پیدا ہوئیں، تین بچوں کی ماں ہیں اور اپنے فارغ وقت میں ناول لکھتی ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eحیرت انگیز طور پر کارمن مولا کے انٹرویو بھی شائع ہوئے لیکن کسی نے ان کا چہرہ نہیں دیکھا بلکہ ہر تصویر میں انہیں کیمرے کی طرف پشت کیے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ناشر پینگوئن رینڈم ہاﺅس کے بقول، کارمن مولا ایک خاتون لکھاری تھیں جو میڈرڈ میں پیدا ہوئیں۔ مولا کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ 40 سالہ ہیں اور تین بچوں کی ماں ہیں، جو بطور پروفیسر کام کرتی ہیں اور فارغ اوقات میں ناول لکھتی ہیں۔ البتہ کارمن مولا کی حقیقت ظاہر ہوجانے کے بعد ان تینوں مصنّفین کو خواتین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eکینیڈین مصنفہ سوسین سوان نے اس حرکت کو فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان مرد مصنّفین میں انسانیت ہے تو انہیں انعام کی یہ رقم واپس کردینی چاہیے یا پھر خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی کسی تنظیم کو عطیہ کردینی چاہیے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003e............٭٭٭............\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eاس کتاب میں بیشتر تحریریں اردو کے نامور ادیبوں کی تحقیق کا نتیجہ ہیں۔ سرقہ اور توارد کے موضوع پر اردو میں کئی کتابیں پہلے شائع ہوچکی ہیں اس لیے ہم نے ان سے مضامین حاصل کرنے سے اجتناب کیا ہے تاہم چند ایسے مضامین جو ہماری اپنی تحقیق کا نتیجہ تھے اور اثبات کے سرقہ نمبر میں ہمارے شکریہ کے ساتھ شائع ہوئے تھے پاکستانی قارئین کے لیے اس کتاب میں دوبارہ شامل کیے گئے ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003e............٭٭٭............\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eاس کتاب کی ترتیب کے لیے میں ڈاکٹر باقر علی شاہ ،ڈاکٹر مرزا حامد بیگ اور جناب اطہر فاروقی(معتمد، انجمن ترقی اردو ہند) کا بے حد شکر گزار ہوں جن کے مشوروں اور رہنمائی کے بغیر اس کتاب کی ترتیب ممکن نہ تھی۔ یہ کتاب بجاطور پر انہیں احباب کے نام معنون کی جارہی ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x14z9mp xat24cr x1lziwak x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\" style=\"overflow-wrap: break-word; white-space: pre-wrap; margin-top: 0.5em; margin-inline: 0px; margin-bottom: 0px; font-family: 'Segoe UI Historic', 'Segoe UI', Helvetica, Arial, sans-serif; color: rgb(8, 8, 9); font-size: 15px; font-style: normal; font-variant-ligatures: normal; font-variant-caps: normal; font-weight: 400; letter-spacing: normal; orphans: 2; text-align: start; text-indent: 0px; text-transform: none; widows: 2; word-spacing: 0px; -webkit-text-stroke-width: 0px; background-color: rgb(255, 255, 255); text-decoration-thickness: initial; text-decoration-style: initial; text-decoration-color: initial;\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"font-family: inherit; text-align: start;\"\u003eڈاکٹر عقیل عباس جعفری\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Aqeel Abbas Jafari","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":52894937481447,"sku":null,"price":4750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0812\/2489\/2647\/files\/zikar-kuch-mukhtalif-kitabon-ka.jpg?v=1792693354","url":"https:\/\/bookshaven.shop\/products\/zikar-kuch-mukhtalif-kitabon-ka-thkr-kch-mkhtlf-ktabo-ka","provider":"My Store","version":"1.0","type":"link"}