{"product_id":"umar-bhar-ki-baat-aamr-br-ky-bat","title":"Umar Bhar Ki Baat - عمر بھر کی بات","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages:\u003c\/strong\u003e 232\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eCategory:\u003c\/strong\u003e Poetry\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv align=\"right\"\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003e\u003cspan style=\"white-space: nowrap;\"\u003e\u003cspan style=\"white-space: normal;\"\u003eصائمہ کی امیجری سرسبز اور ہری بھری ہے۔ اس نے علامتیں اپنی زمین اپنی مٹی کی لی ہیں۔ اس کی شاعری میں رنگ کہیں دھانی ہیں، کہیں ہرے، کہیں قرمزی اور کہیں ارغوانی! اُس نے ساون بھادوں کے بادل شاعری میں خوب بھرے۔ یہاں تک کہ آنکھیں ان بادلوں کے مس سے گیلی ہو گئیں۔ اُ س کی لفظیات گہرے ناسٹیلجیا کی آئینہ دار ہیں۔ تتلی، بچپن، کاغذ کی ناؤ، پیپل، چاند کا گولا، پیا ملن، گھنگرو، گھور اندھیرا، چولہے، مٹکے، پائل، انگارہ اور اسی طرح کی کئی اور! بعض اشعار پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح اس نے علامتوں کو ایک نسبت، ایک تناسب سے برتا ہے۔ ایک نظام آراستہ کیا ہے۔ منطق کو بھی اپنایا ہے اور حسنِ ترتیب کو بھی!\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003e(محمد اظہار الحق)\u003cbr\u003eاکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں جن شاعرات کو ادبی دُنیا میں سراہا گیا، ان میں سب سے مضبوط آواز صائمہ آفتاب کی ہے ۔ ان کے ہاں تازہ کاری اور تخلیقی زرخیزی ایک تسلسل کے ساتھ ہمیں دکھائی دیتی ہے ۔ غزل کا سب سے مشکل کام ’کیا کہنے‘ سے زیادہ ’کیا نہیں کہنا‘ اور کہنا ہے تو اس کے لیے کیا سلیقہ درکار ہو گا۔ ہم عصر ادبی منظرنامے پر کئی نسائی لہجے ایسے ہیں جن کو سُن کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ نہ کہنے والی بات ایسے انداز سے کہی جاتی ہے کہ شاعری نعرے بازی بن جاتی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد نسائی شاعری میں آزادیٔ نسواں اور آزادیٔ اظہار کے نام پر بہت سی شاعرات نے نہ کہنے والی باتیں کُھل کر کہیں، لیکن صائمہ آفتاب کو ربّ نے یہ توفیق ارزانی کی ہے کہ ذات کے بحران سے جنم لینے والی اَن کہی باتیں اس سلیقے سے کہہ دینی ہیں کہ وہ ایک بڑی شاعرہ بن کر سامنے آتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ نئی شاعرات میں رول ماڈل کے طور پر اپنا مقام بنا چکی ہیں۔ میں اُن کے شعری مجموعے کی مقبولیت اور قبولیت کے لیے دُعاگو ہوں۔\u003cbr\u003e(عباس تابش)\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003eصائمہ آفتاب کو قدرت کی طرف سے مشاہدۂ حق پرمامور ایسا قلم عطا ہوا ہے جو محض نظارہ بینی ہی نہیں نظارہ سازی پر بھی قادر ہے۔ اُن کی یہ صلاحیت معاشرے میں اُنھیں انفرادی اور اجتماعی اقدار کا امین بنا کر پیش کرتی ہے۔ \u003cbr\u003e صائمہ آفتاب نے اپنے عملِ تخلیق سے ثابت کیا ہے کہ اُن کے سوالوں کا جواب کسی صاحبِ دستار کے پاس نہیں بلکہ معمورۂ عالم میں خَلقت اور خِلقت کی ناز بردار ایک ایسی عورت کے پاس ہے زمانہ جسے سردار عورت کے نام سے جانتا ہے۔ یہ وہ سردار عورت ہے جس کے پاس گرفت، سرزنش اور احتساب کا اختیار بھی ہے اور مسئلے کا حل بھی! \u003cbr\u003eاُن کی شاعری میں تصورِخاندان، سماجی ربط و تعلق اور خونی رشتوں کی قدر جیسے معاملات کا اظہار بکثرت ملتا ہے۔ باہمی تعلقات اور جذباتی وابستگی کی اِن صورتوں کو پائیدار تخلیقی تجربے میں پیش کرنا آسان نہیں۔ شعر اور غیرِشعر کو جس پل صراط سے بھی ممتاز یا الگ کیا جا تا ہے وہ ناقابلِ اعتبار بھی ہے اور بے لحاظ بھی۔\u003cbr\u003eصائمہ آفتاب کی بعض نظموں میں بھی انسان شناسی اور انسانی اقدار کے تحفظ کی مختلف صورتوں کا اظہار ہوا ہے۔ اِس ضمن میں اُن کی نظمیں ’جنم دن‘، ’ستارہ بچے‘، ’یہ میرا لاڈلا بچہ‘ اور ’گڑیا‘ قابلِ ذکر ہیں۔ یہی وہ ’جنم دن‘ ہے جو آدم سے ابن ہر آدم تک ایک ہی طور سے ظاہر ہوتا ہے اور نوک قلم کی ایک ہی جنبش سے زندگی اورانسان کے باہمی ربط و تعلق و تسلسل عطا کرتا اور سوال اٹھاتا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔\u003cbr\u003e(شاہین عباس)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eخوب صورت، پُر سوچ آنکھوں، دھیمے اضطراب اور ہلکے سنہری لہجے میں باتیں کرتی، گلابی شعر سناتی ہوئی عورت خاموش بھی ہو جاتی ہے، تب بھی اس کے ان کہے سوالوں کے جگنو دائرہ در دائرہ کہیں آس پاس ہی جلتے بجھتے محسوس ہوتے ہیں۔\u003cbr\u003eصائمہ آفتاب کے ہاں بھی اس کے وجود سے جھلکتا یہی ان کہی کا حسن اس کی شاعرانہ حیثیت کو تسلیم کروانے لگتا ہے کہ شاعری تو ہے ہی بھید بھری چپ کی داستان۔ اور جب مشرق کی عورت اسے تخلیق کرنے کی سزا وار ٹھہرتی ہے تو اس کے بدن سے روح تک جیسے زرنگار، ریشم کی زنجیریں اپنا حصار بننے لگتی ہیں۔ پھر باطن میں بھڑکتا عشق کا الاؤ دھیرے دھیرے عمر بھر کی سلگن میں بدل کر رہ جاتا ہے۔ یہی ہڈیوں کا بالن کرتی کیفیت ہی تو ہے جو حرف کو لفظ اور لفظ کو شعر کرنے کا ہنر عطا کرتی ہے۔\u003cbr\u003eقدرت کی طرف اسے ودیعت کردہ اظہار کی طاقت پر قادر عورت کے اندر جبر کی روایت سے بغاوت پوری سرکشی سے ساتھ ہمکتی رہتی ہے۔ ان میں سے چند بہادر ہیں جو اپنے پورے سچ کے لیے کشور ناہید کی طرح ہمیشہ سر بہ کف رہنے کی ہمت رکھتی ہیں۔ اور چند ملائم حوصلہ کہ جو رفتہ رفتہ نرم گرم سمجھوتوں کی ستاروں بھری شال اوڑھ کر ادھورا سچ بولنا سیکھ لیتی ہیں اور پھر اپنی ذات سے کائنات تک نفی و اثبات کا لامتناہی سفر شروع ہو جاتا ہے، جس میں کہیں شب دریدہ تو صبحِ شکستہ، کہیں شام روشن تو دن ہے شکستہ۔ صائمہ آفتاب ان تجربات کو اپنی شاعری میں پرو تی نظر آتی ہیں۔\u003cbr\u003e(نوشی گیلانی)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Saima Aftab","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":68383365169403,"sku":null,"price":1450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0837\/4301\/5163\/files\/umar-bhar-ki-baat.jpg?v=1792832490","url":"https:\/\/bookshaven.shop\/products\/umar-bhar-ki-baat-aamr-br-ky-bat","provider":"Books Haven","version":"1.0","type":"link"}