{"product_id":"uljhy-dhaghy-alg-dag","title":"Uljhy Dhaghy - الجھے دھاگے","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages:\u003c\/strong\u003e 205\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eCategory:\u003c\/strong\u003e Short Stories\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv align=\"right\"\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003eادبِ لطیف میں افسانہ ’’مائے نی میں کنوں آکھاں‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ کیا ہی شاہکار طویل، مختصر افسانہ ہے۔ یہ غالباً موجودہ دَور کا بہترین افسانہ ہے۔ اِس افسانے میں انسانی نفسیات کا بغور مشاہدہ اور مطالعہ، حقیقی مسرّت کی جستجو اور اُسے پانے کا اضطراب، آپ کی عالمی ادب پر گہری نظر کا غماز ہے۔ افسانے میں الفاظ کی نشست و برخاست، آس پاس کی منظر نگاری اور پہاڑوں کی تجسیم پڑھ کر میں اب تک سحر میں ہوں۔ خوش قسمت ہے مصباح کہ آپ نے اُس کے کردار کو تشخص عطا کیا۔\u003cbr\u003eمحمود شام\u003cbr\u003eتبسّم ریحان کا افسانہ ’’بس ایک سنگ اُٹھا‘‘ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ وہ ایک منجھے ہوئے کہانی نویس ہیں۔ طویل کہانی میں بہت سے مشکل مقام آتے ہیں۔ واقعات کی کڑیوں کو مربوط رکھتے ہوئے کہانی کو انجام تک پہنچانا آسان نہیں۔ تبسّم ریحان اسلوب کی سطح برقرار رکھتے ہوئے اچھی کہانی لکھنے میں کامیاب ٹھہرے۔یہ افسانہ اچھے افسانوں کی فہرست میں شامل رہے گا۔\u003cbr\u003eڈاکٹر خالق تنویر\u003cbr\u003eسماجی رویوں کے حوالے سے جیسی باریک بینی تبسّم ریحان کو قدرت کی طرف سے ودیعت ہوئی ہے وہ کم ہی تخلیق کاروں کو میسّر آئی ہے۔ تبسّم صاحب کا یہ اختصاص ہے کہ وہ رومانیت ہو یا واقعہ نگاری، دونوں میں احساس آمیز کہانی کا چٹخارہ بھرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اُن کے تمام افسانے اس خوبی سے متصف ہیں۔ شاعری کی دُنیا میں اپنا آپ منوانے کے بعد افسانہ کے میدان میں اُن کے جوہر زیادہ توانائیوں کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ تبسّم ریحان کے افسانوں میں صنفِ افسانہ کے لوازمات کی موجودگی سے بھی انکار ممکن نہیں۔ کردار، پلاٹ اور وحدتِ تاثر کا اہتمام حیرت انگیز ہے۔ ان کے افسانوں کے کردار ہماری آپ کی دُنیا کے ہی کردار ہیں مگر ذرا مغموم، اُداس اور دل گرفتہ سے۔ اُن کا فن اُس اُداسی کا غماز ہے جو بارش کی طرح شور نہیں کرتی بلکہ برف کے گالوں کی طرح دھیرے دھیرے خاموشی سے اُترتی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ تبسّم ریحان کا یہ تخلیقی ضابطہ اور سلیقہ انھیں افسانے کی دُنیا میں ضرور نمایاں کرے گا۔\u003cbr\u003eطالب انصاری\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Tabassum Rehan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":52895330828519,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0812\/2489\/2647\/files\/uljhy-dhaghy.jpg?v=1792698652","url":"https:\/\/bookshaven.shop\/products\/uljhy-dhaghy-alg-dag","provider":"My Store","version":"1.0","type":"link"}