{"product_id":"middlemarch-urdu-ml-march-ardo","title":"MIDDLEMARCH (URDU) مڈل مارچ (اردو)","description":"\u003cp dir=\"auto\"\u003e ’’لوگ عموماً اُس سے بہتر ہوتے ہیں جتنا اُن کے پڑوسی اُنھیں سمجھتے ہیں۔‘‘\u003cbr\u003e یہ ’’مڈل مارچ‘‘ کا مرکزی خیال ہے۔ جارج ایلیٹ کا یہ عظیم ناول ان کا سب سے بلند پایہ تخلیقی کارنامہ ہے، جس میں ایک صوبائی معاشرے کی متنوع زندگی، تغیر آمادہ حالات اور انسانی تقدیر کی نہایت فن کارانہ اور مؤثر عکاسی کی گئی ہے۔ اس ناول میں ڈوروتھیا بروک ایک ایسی نوجوان مثالیت پسند لڑکی ہے جو اپنی ذہنی اور فکری تسکین کے لیے ایک معمر عالم و مفکر کاسابون سے شادی کر لیتی ہے، جو اس کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ دوسری طرف خوش مزاج مگر بے تکلف اور غیر محتاط ڈاکٹر لڈگیٹ ہے، جس کی حسین لیکن فضول خرچ بیوی روزامَنڈ اس کے پیشہ ورانہ مستقبل کو مسلسل خطرے میں ڈالے رہتی ہے۔ اسی معاشرے میں بالسٹروڈ بھی موجود ہے، جو مذہبی پارسائی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، مگر اپنے ماضی کے سنگین جرائم اور رسوائیوں کو چھپائے بیٹھا ہے۔\u003cbr\u003e جوں جوں ان کرداروں کی کہانیاں ایک دوسرے میں مدغم ہوتی ہیں، جارج ایلیٹ ایک نہایت باریک، عمیق اور دل گداز ڈراما تخلیق کرتی ہیں، جسے ورجینیا وولف نے ’’ان چند انگریزی ناولوں میں سے ایک‘‘ قرار دیا جو ’’بالغ لوگوں کے لیے لکھے گئے ہیں۔‘‘\u003cbr\u003e \u003cbr\u003e ---\u003cbr\u003e \u003cbr\u003e جارج ایلیٹ، میری این (میرین) ایونز کا قلمی نام ہے۔ ان کی پیدائش 1819ء میں وارک شائر میں ہوئی۔ میرین نے سولہ برس کی عمر میں، والدہ کے انتقال کے بعد، اپنی رسمی تعلیم ترک کر دی تاکہ گھر کی دیکھ بھال کر سکیں۔ کچھ عرصہ بعد انھوں نے ذاتی مطالعے اور اپنے طور پر علم کے حصول کا سلسلہ شروع کیا، جس میں لاطینی، یونانی اور فلسفہ بھی شامل تھا۔\u003cbr\u003e جب وہ اپنے والد کے ساتھ کوونٹری منتقل ہوئیں تو وہاں ان کی دوستی دو مقامی افراد چارلس اور کیرولین برے سے ہوئی۔ انھوں نے میرین کو رابرٹ اووین اور ہیرئیٹ مارٹینو جیسے ترقی پسند مفکرین سے متعارف کرایا، جنھوں نے اسے مذہب کے نسبتاً آزاد اور وسیع تر تصورات سے روشناس کرایا۔\u003cbr\u003e ان کی پہلی اہم ادبی کاوش اسٹراس کی کتاب ’’لائف آف جیسَس‘‘ کا انگریزی ترجمہ تھی، جو 1846ء میں شائع ہوئی۔ یہ ترجمہ ایک بنیاد پرست ناشر جان چَیپ مین کی فرمائش پر کیا گیا تھا۔ 1851ء میں جب چَیپ مین ویسٹ منسٹر ریویو کے مالک اور مدیر بنے تو انھوں نے میرین کو لندن آنے اور رسالے کی منتظم مدیر کی حیثیت سے کام کرنے کی دعوت دی۔ انیسویں صدی میں کسی بڑے ادبی جریدے میں ایک عورت کا اس نوعیت کا منصب سنبھالنا ایک غیر معمولی بات تھی۔\u003cbr\u003e ناول کو اعلیٰ درجے کے فن کے طور پر دیکھتے ہوئے، میرین نے فکشن کی طرف قدم بڑھایا۔ اس سلسلے میں انھیں جارج ہنری لیوس کی حوصلہ افزائی حاصل ہوئی، جو ایک ہمہ جہت دانش ور تھے۔ اگرچہ لیوس پہلے ہی شادی شدہ تھے اور اپنی ازدواجی زندگی ختم کرنے کے لیے قانونی طور پر طلاق نہیں لے سکتے تھے، پھر بھی میرین ان کے ساتھ علانیہ رہنے لگیں۔ 1878ء میں لیوس کی وفات تک دونوں ساتھ ساتھ رہے۔ \u003cbr\u003e جارج ایلیٹ کے نام سے انھوں نے اپنی کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’سینز آف کلیریکل لائف‘‘ (1858ء) اور اپنا پہلا مکمل ناول ’’ایڈم بیڈے‘‘ (1859ء) شائع کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے بے شمار تبصرے، مضامین اور مقالے بھی سپردِ قلم کیے اور مزید چھ ناول ’’دی مل آن دی فلاس‘‘ (1860ء)، ’’سیلاس مارنر‘‘ (1861ء)، ’’رومولا‘‘ (1863ء)، ’’فیلس ہالٹ‘‘ (1866ء)، ’’مڈل مارچ‘‘ (1871ء) اور ’’ڈینیئل ڈیرونڈا‘‘ (1876ء) تخلیق کیے۔\u003cbr\u003e ایک مختصر ازدواجی زندگی کے بعد 1880ء میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کے ایک پرانے دوست جے ڈبلیو کراس اُس وقت ان کے شوہر تھے۔ کراس نے بعد میں ان کی سوانح عمری بھی لکھی۔ جارج ایلیٹ کو لندن کے ہائی گیٹ قبرستان میں جارج ہنری لیوس کے پہلو میں دفن کیا گیا۔\u003cbr\u003e \u003cbr\u003e ---\u003cbr\u003e \u003cbr\u003e 1872–1871 — پہلی اشاعت: ’’مڈل مارچ: اے سٹڈی آف پراوِنشل لائف‘‘ برطانوی مصنفہ جارج ایلیٹ کا ناول ہے۔ ناول کی طوالت کے پیشِ نظر جارج ایلیٹ اور جارج ہنری لیوس نے ناشر جان بلیک وڈ کے سامنے اسے روایتی جلدوں کے بجائے آٹھ الگ کتابی حصوں میں شائع کرنے کی تجویز رکھی۔ لہٰذا ایڈنبرا اور لندن کے معروف ناشر ’’ولیم بلیک وڈ اینڈ سنز‘‘ نے پہلا حصہ دسمبر 1871ء میں شائع کیا۔ بعد کے حصے فروری، اپریل، جون، اگست، اکتوبر، نومبر اور دسمبر 1872ء میں سامنے آئے۔ ہر حصہ پانچ شلنگ میں فروخت ہوتا تھا۔\u003cbr\u003e 1872 — پہلی مکمل کتابی اشاعت: آٹھواں اور آخری حصہ دسمبر 1872ء میں شائع ہوا۔ اسی مہینے ’’ولیم بلیک وڈ اینڈ سنز‘‘ نے آٹھ حصوں میں شائع ہونے والے ناول کو پہلی بار یکجا کرکے چار جلدوں پر مشتمل مکمل کتابی ایڈیشن کی صورت میں بھی شائع کیا۔ \u003cbr\u003e 1874 — یک جلدی ایڈیشن: مئی 1874ء میں ناول کا نسبتاً کم قیمت پہلا یک جلدی ایڈیشن شائع ہوا، جو بے حد مقبول ثابت ہوا، اسی سال کے اختتام تک اس کی دس ہزار سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو چکی تھیں۔\u003cbr\u003e 2026 — پہلا اُردو ترجمہ: جناب یعقوب یاور نے ’’مڈل مارچ‘‘ کو مکمل اُردو قالب میں ڈھالا۔ وہ اس سے قبل نجیب محفوظ کی شاہکار ’’قاہرہ ٹرائلوجی‘‘ کا بھی اُردو ترجمہ کر چکے ہیں۔\u003cbr\u003e 2026 — پاکستان میں بک کارنر نے ’’مڈل مارچ‘‘ کو اپنی ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا ہے۔ اردو زبان میں اس کلاسیکی ناول کی یہ پہلی مکمل اشاعت ہے۔\u003cbr\u003e \u003cbr\u003e ---\u003cbr\u003e \u003cbr\u003e یقیناً یہ انگریزی کا سب سے عظیم ناول ہے۔\u003cbr\u003e — مارٹن ایمس، برطانوی ناول نگار\u003cbr\u003e \u003cbr\u003e میں جانتی ہوں کہ ’’مڈل مارچ‘‘ آٹھ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ میں سمجھتی ہوں، اس کے باوجود، یہ سماج اور معاشرت پر لکھا جانے والا انگریزی کا انتہائی دلکش ناول ہے۔ جارج ایلیٹ زندۂ جاوید رہیں گی۔ \u003cbr\u003e — مِن جِن لی، کوریائی نژاد امریکی ناول نگار\u003cbr\u003e \u003cbr\u003e مڈل مارچ ایک شاندار کتاب ہے، جو اپنی تمام ناہمواریوں کے باوجود ان چند انگریزی ناولوں میں سے ایک ہے جو بالغ لوگوں کے لیے لکھے گئے ہیں۔\u003cbr\u003e — ورجینیا وولف، برطانوی ناول نگار\u003cbr\u003e \u003cbr\u003e انگریزی ناولوں میں سب سے زیادہ گہرا، دانائی سے بھرپور اور مسحور کن ناول... اور سب سے بڑھ کرانسانی رویوں کے بارے میں سچا۔\u003cbr\u003e — ہرمایونی لی، برطانوی نقاد\u003cbr\u003e \u003cbr\u003e اپنے موضوعاتی دائرۂ کار کی وسعت، اپنے فکری استحکام اور اپنے بیانیے کی پُرسکون کشادگی کے اعتبار سے کوئی بھی وکٹورین ناول ’’مڈل مارچ‘‘ کا مقابلہ نہیں کرتا۔ مجھے شک ہے کہ کسی اور وکٹورین ناول نگار کے پاس جدید ناول نگاروں کو سکھانے کے لیے جارج ایلیٹ جتنا کچھ ہے... کسی بھی ادیب نے اخلاقی انتخاب کی پیچیدگیوں اور ابہامات کو اتنی مکمل صورت میں پیش نہیں کیا ہے۔\u003cbr\u003e — وی ایس پرچیٹ، برطانوی ادیب\u003cbr\u003e \u003cbr\u003e ’’مڈل مارچ‘‘ غالباً انگریزی زبان کا عظیم ترین ناول ہے۔\u003cbr\u003e — جولیئن بارنز، برطانوی ناول نگار\u003cbr\u003e \u003cbr\u003e یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ مڈل مارچ انگریزی کا سب سے عظیم ناول ہے۔\u003cbr\u003e — اے ایس بائٹ، برطانوی ناول نگار\u003cbr\u003e \u003cbr\u003e غصے سے بھرے اور انٹرنیٹ کے خمار میں مبتلا زمانے میں شاید اس سے زیادہ باوقار اور اجتماعیت کو تقویت دینے والی کوئی تخلیق نہیں کہ قارئین کے ایک گروہ کے ساتھ دیہی انگلستان کے بارے میں انیسویں صدی کا ایک ضخیم ناول پڑھا جائے اور اس پر گفتگو کی جائے۔ ’’مڈل مارچ‘‘ آہستہ آہستہ پڑھنے والے بُک کلب کے لیے ایک بہترین انتخاب ہو گا۔ آپ اس کے دل چسپ کرداروں کے مجموعے کو باریک بینی سے سمجھنے اور پرکھنے کے لیے اپنا وقت صرف کرنا چاہیں گے۔ مخلص اور تلخ مزاج، شیخی بگھارنے والے اور نرم دل کردار۔ اپنے ہمہ دان راوی کی دانا اور پُرسکون بصیرت کے ذریعے ایلیٹ ان زندگیوں کی مکمل پیچیدگی کو ہمارے سامنے رکھتی ہیں، اور فکشن کے جادو سے ہماری اپنی زندگیوں کی پیچیدگی کو بھی۔ اس ناول کے تقریباً ہر صفحے پر دانائی کا ایک دھماکا موجود ہے۔\u003cbr\u003e — لاس اینجلس ٹائمز، ’’ہر قسم کے قاری کے لیے بُک کلب کے 101 بہترین انتخاب‘‘ \u003c\/p\u003e","brand":"BOOK CORNER","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":68383417434363,"sku":null,"price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0837\/4301\/5163\/files\/6aa24377d8d2b1789018999.jpg?v=1792833739","url":"https:\/\/bookshaven.shop\/products\/middlemarch-urdu-ml-march-ardo","provider":"Books Haven","version":"1.0","type":"link"}