{"product_id":"khuda-ki-basti-khda-ky-bsty","title":"Khuda Ki Basti - خدا کی بستی","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages:\u003c\/strong\u003e 528\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eCategory:\u003c\/strong\u003e Novels\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv align=\"right\"\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003eشوکت صدیقی کا شمار اردو زبان کے ایسے ناول نگاروں کی صف میں ہوتا ہے، جن کے ناولوں کے تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں ہوئے۔ ان کا سب سے مشہور یہ ناول 'خدا کی بستی' دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوا، جبکہ دوسرے مقبول ناول 'جانگلوس' کا بھی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ ان کے لکھے ہوئے دیگر ناول ’چار دیواری‘ اور 'کمین گاہ' بھی اہم نوعیت کے حامل ہیں۔ شوکت صدیقی ان چار ناولوں اور اپنی دیگر تخلیقات کی وجہ سے اردو ادب میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔\u003cbr\u003eپاکستان میں اگر کسی ناول کے دو چار ایڈیشن بھی آجائیں تو اسے خوش قسمتی گردانا جاتا ہے، مگر اس ناول کے اب تک تقریباً 50 ایڈیشن مختلف ناشرین کے زیراہتمام شایع ہوچکے ہیں۔ اس ناول کو ڈرامائی تشکیل بھی دی گئی اور پاکستان ٹیلی وژن سے پانچ مرتبہ نشر ہوا۔ \u003cbr\u003eخدا کی بستی میں شوکت صدیقی نے قیام پاکستان کے بعد معاشرتی مسائل کی تفصیل سے منظرنگاری کی ہے۔ اس ناول کا مرکزی احساس ایک ایسا معاشرتی نظام ہے، جس میں شہری زندگی کے مصائب بیان کیے گئے ہیں۔ نئے ملک کے وجود میں آنے کے بعد مہاجرین کی آبادکاری، روزگار اور دیگر ضرورتوں کے تانے بانے سے کرداروں کو تخلیق کیا گیا ہے۔\u003cbr\u003eاسی نظام میں جہاں زندگی کو گزارنے کی تگ و دو دکھائی گئی، وہیں ناانصافیوں، جرائم اور معاشرتی استحصال کے پہلو بھی کہانی کے کرداروں کے ذریعے قلم بند کیے گئے، جن کے بیانیے پر شوکت صدیقی نے اپنی لفظیات کے ذخیرے اور تخلیقی صلاحیت کو پوری طرح صرف کیا۔\u003cbr\u003eخدا کی بستی کی مرکزی کہانی تین کرداروں کے اردگرد بنی گئی ہے جن کے نام راجہ، نوشہ اور شامی ہیں۔ ان تینوں کی عمریں زیادہ نہیں۔ ان میں عمر میں سب سے بڑا لڑکا راجہ ہے، جو تھوڑا سمجھدار ہے، ایک پیشہ ور گداگر کی گاڑی گھسیٹ کر اپنی روزی کمانے کی سعی کرتا ہے۔ دوسرا لڑکا نوشہ، جو عمر میں اس سے بھی کم ہے، ایک موٹرمکینک کے ہاں مزدوری کرتا ہے، جبکہ تیسرا لڑکا شامی بھی کم عمر ہے جو معاشی طور پر ایک تباہ حال خاندان کا فرد ہے اور اپنے والد کے غیض و غضب کا شکار رہتا ہے۔\u003cbr\u003eاسی ناول کا ایک اہم کردار نیاز ہے، جو کباڑیہ ہے۔ وہ نوشہ کو گیراج میں سے پرزے چرانے کی ترغیب دیتا ہے، اور وعدہ کرتا ہے کہ اس کے بدلے وہ معاشی طور پر خوشحال ہوجائے گا، مگر یہ راستہ اس کو برباد کر دیتا ہے۔مگر زمانے کی ستم ظریفی کی حد یہیں ختم نہیں ہوتی۔ خان بہادر فیاض علی کی صورت میں ایک سماجی کوڑھی نوشہ کی بہن سلطانہ کو تباہ کرنے کی تگ و دو میں رہتا ہے۔ اس کردار کے ذریعے سماج کے پاکیزہ کرداروں کے کالے کرتوت کو بخوبی پہچانا جاسکتا ہے، جو دیکھنے میں سماج کے اعلیٰ عہدوں اور معاشرتی اقدار کے حامل ہیں مگر ان کی ذات بدبودار اور ضمیر کے قبرستان کی مانند ہے۔\u003cbr\u003eخدا کی بستی معصوم زندگیوں کی حالات کے ہاتھوں جہنم ہونے کا نوحہ ہے، جس کو شوکت صدیقی نے نہایت مہارت سے لکھا۔ کرداروں کی بنت میں ترتیب اور واقعات کا تسلسل بڑی کاریگری سے تخلیق کیا۔ معاشرے کی حقیقتوں اور حقیقی کرداروں سے مماثلت بنا کر اپنے کرداروں کی زبان، نفسیات اور چال ڈھال بنائی، جس کی وجہ سے یہ ناول آج بھی ہمارے حالات کی عکاسی کرتا محسوس ہوتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shaukat Saddiqui","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":52895181734119,"sku":null,"price":1450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0812\/2489\/2647\/files\/khuda-ki-basti-4.jpg?v=1792697866","url":"https:\/\/bookshaven.shop\/products\/khuda-ki-basti-khda-ky-bsty","provider":"My Store","version":"1.0","type":"link"}