Gumnaam Gaon Ka Akhri Mazar - گمنام گاؤں کا آخری مزار
- Rs.1,100.00
-
Regular price
Rs.1,500.00 -
-26%
Gumnaam Gaon Ka Akhri Mazar - گمنام گاؤں کا آخری مزار
Pages: 360
Category: Short stories
گُمنام گاؤں کا آخری مزار
وہ تحریریں جو کبھی بوڑھی نہیں ہوتیں
مصنف: رؤف کلاسرا Rauf Klasra
پیش لفظ | رؤف کلاسرا
اگست 2020ء | اسلام آباد
جواہر لعل نہرو نے ایک دفعہ لکھا تھا کہ اپنے بارے میں لکھنا دُنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ آپ اپنی تعریف کرتے ہیں تو لوگوں کا دِل دُکھتا ہے اور اگر آپ اپنی تعریف نہیں کرتے تو آپ کا اپنا دل دُکھتا ہے۔
میں بھی اس وقت اسی کشمکش کا شکار ہوں۔ میں اپنی تعریف تو ہرگز نہیں کرنا چاہتا لیکن میں اپنی کچھ تحریروں پر بات ضرور کرنا چاہتا ہوں۔ کہتے ہیں ہر ادیب کو اپنی تمام تحریریں اپنے سبھی بچوں کی طرح اچھی لگتی ہیں۔ جیسے آپ بچوں میں کوئی فرق نہیں کر سکتے کہ کون زیادہ پسند ہے، ایسے ہی آپ کو اپنی تحریروں کے بارے میں لگتا ہے۔
آپ یقیناً سوچیں گے کہ ان تحریروں میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ آپ جیب سے پیسے خرچ کر کے خریدیں اور پڑھیں۔ یہ تو عام لوگوں کی کہانیاں ہیں، ان میں ایسا کیا خاص ہو گا؟ اس کتاب کو پڑھنے کی یہی تو بڑی وجہ ہے کیونکہ یہ عام لوگوں کی کہانیاں ہیں جن سے آپ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے اور یہی عام لوگ ہی آپ کو خاص لگیں گے۔
اس کتاب میں اس معاشرے کے کُچلے ہوئے گُمنام سے لوگوں کی کہانیاں ہیں اور یقین جانیے یہ سب سچّی ہیں۔ میرے لیے بڑا آسان تھا میں بڑے لوگوں کی کہانیاں آپ کو سُناتا جو سب لوگ خوشی سے سنتے کیونکہ ہم سب بڑے لوگ بننا چاہتے ہیں اور مجھ سے شاید کچھ متاثر بھی ہوتے۔ ہم وہی زندگی گزارنا چاہتے ہیں جو امیر اور بڑے لوگ گزارتے ہیں۔ ان کا لائف اسٹائل ہمیں اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس لیے دُنیا بھر میں بڑے لوگوں کی آٹوبائیوگرافیز زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ لوگ پڑھتے ہیں کہ وہ بڑا آدمی کیسے بنا کہ شاید ان کتابوں میں کوئی ایسا نسخہ کیمیا مل جائے کہ وہ بھی اس کی طرح بڑے لوگ بن جائیں۔
ہو سکتا ہے بعض لوگ اسے انسپائریشن کا نام دیں کہ کامیاب لوگوں کو پڑھ کر آپ کے اندر بھی آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ آسمان کو چُھو سکتے ہیں تو ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ لیکن یہ طے ہے کہ کسی دوسرے انسان کی زندگی کے طریقے استعمال کر کے آپ اس طرح کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کامیاب آپ نے اپنے ہی فارمولے سے ہونا ہے۔ لیکن وہی بات کہ کامیاب لوگوں کی باتیں پڑھ کر آپ کو اچھا لگتا ہے۔
لیکن اس کتاب میں کسی بڑے آدمی کی کوئی کہانی نہیں ہے۔ اس میں کسی وزیرِ اعظم، وزیر، سفیر یا سرکاری بابوؤں یا ارب پتیوں سے دوستیوں یا ان سے میل ملاپ کی کہانیاں نہیں ہیں۔ یہ عام سے لاچار اور بے بس انسانوں کی داستانیں ہیں۔ اس لیے اس کتاب کا ہیرو میرے گاؤں کا کمہار چاچا میرو ہے جس کی کہانی لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں کئی دفعہ آنسو آئے اور کافی دیر تک کچھ نہ لکھا گیا، حتیٰ کہ مجھے اپنا قلم چھوڑنا پڑا۔
لیہ کی حسینہ بی بی ہو، ڈرائیور الطاف ہو، یا پھر سکول ماسٹر اسلم کی بیٹی کا المیہ۔ ان معصوم لوگوں کی کہانیاں لکھتے ہوئے مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ ادیب بھی کسی ٹریجڈی سے اتنا ہی متاثر ہوتا ہے جتنا اسے عام پڑھنے والا۔ میرا خیال تھا ادیب بے حِس ہوتے ہوں گے، سخت دِل، وہ خود نہیں روتے، وہ دوسروںکو رُلاتے ہیں۔ لیکن جب میں نے خود لکھنا شروع کیا تو مجھے احساس ہوا اگر آپ خود حسّاس انسان نہیں ہیں تو پھر آپ نہ اچھے انسان ہیں اور نہ ہی اچھے لکھاری۔ اگر آپ اپنی کسی تحریر کو لکھتے وقت نہیں روئے تو آپ کا قاری کیسے روئے گا۔ جب تک آپ دوسروں کے دُکھوں پر وہی تکلیف یا درد محسوس نہیں کرتے جو آپ اپنے کسی قریبی کو دیکھ کر محسوس کرتے ہیں تو پھر آپ نہ اچھے انسان بن سکتے ہیں نہ ہی ادیب۔ ادیب اور لکھاری تو بنتے ہی وہ لوگ ہیں جو بہت حسّاس ہوتے ہیں۔ وہی اچھے انسان اور ادیب بن سکتے ہیں جو دوسروں کی جگہ خود کو رکھ کر سوچنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے آپ میرے گاؤں کے چاچا خدا بخش قصائی کے دُکھوں پر افسردہ نہیں ہوں گے؟ بوڑھے میاں بیوی جن کا جوان بیٹا کچھ دن پہلے فوت ہو چکا ہے، میں ان کے گھر تعزیت کے لیے جاتا ہوں۔ وہ مجھے دیکھ کر اپنے جوان بیٹے کی موت کو بھول جاتے ہیں اور وہ مجھ سے اپنا نیا دُکھ شیئر کرتے ہیں۔ اب ان کی بیوہ بہو اپنی دو چھوٹی بیٹیوں کو لے کر وہ گھر چھوڑنا چاہتی ہے۔ بوڑھے میاں بیوی میری منتیں کر رہے ہیں کہ میں انہیں روک لوں۔ وہ اپنے مرحوم بیٹے کی نشانیاں اپنے سامنے رکھ کر زندگی کے باقی دن گزارنا چاہتے ہیں۔ گیبرئل گارشیا مارکیز جیسا ادیب ہوتا تو اس انسانی المیے پر عظیم ناول لکھتا۔ یا پھر ملتان کے ذوالکفل بخاری کی کہانی جو سعودی عرب میں ایک حادثے میں فوت اور وہیں دفن ہوا۔ اس بوڑھے باپ کی داستان جسے ایک دن یتیم پوتوں نے کہا، وہ باپ کی قبر پر مکہ مکرمہ جانا چاہتے ہیں۔ جب بوڑھا دادا اور دو چھوٹے پوتے قبر ڈھونڈنے پاکستان سے جاتے ہیں تو وہاں صرف دو پتھر رکھے ملتے ہیں۔ کوئی اشارہ کرتا ہے یہ رہا تمہارا باپ اور بیٹا۔ اس دُکھ کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں؟ بوڑھا باپ پاکستان سے سعودی عرب پوتوں کے ساتھ مرحوم بیٹے کی قبر کی تلاش میں گیا ہے اور وہاں صرف دو پتھر رکھے دیکھے...!
ملتان کے چار درویش ایسے درویش تھے کہ جن کی محفلوں نے مجھے محبّت کی نئی منزلوں سے آشنا کرایا۔ باقر شاہ کا اپنے بچوں کو کہنا کہ میرا دل چاہتا ہے رؤف کو بھی اپنے بچوں کی طرح جائیداد میں حصہ دوں یا چودھری نیاز جیسا عظیم اور درویش انسان جو رات کو عشا کی نماز سے گھر واپسی پر اپنے بیٹے کی گاڑی میں سے ٹیپ چوری کرتے چور کو اندر سے پیچ کَس لا دے کہ اس سے کھول لو بیٹا۔ چور ڈر جائے تو اسے تسلّی دے اور کہے، کوئی بات نہیں آپ کو اس کی ضرورت ہو گی۔ چودھری نیاز جیسی معصومانہ مسکراہٹ میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ یا اس سولہ سالہ بیٹی کی کہانی جب اچانک اسے پتا چلا کہ اس کا باپ تو مافیا کے لیے لوگوں کو قتل کرتا تھا۔ ہمارے ہاں ایسے بچے کیوں پیدا نہیں ہوتے؟ یہ کہانی بھی آپ کو ہلا کر رکھ دے گی۔
جو تحریر لکھتے ہوئے میں سارا وقت آنسوؤں سے بھیگا رہا وہ The Kite Runner ہے۔ یا پھر 1970ء کی دہائی کے ہندوستان کے ایک ڈپٹی کمشنر کی بیوی کی کہانی جو آپ کا ایمان تازہ کر دے گی، جس نے اپنے خاوند کو کہا تھا کہ تم ہندوستان کی طاقتور ترین وزیراعظم اندرا گاندھی سے مت ڈرنا اور وہی کرنا جو انصاف کہتا ہے، چاہے وہ تم پر آسمان ہی کیوں نہ گرا دے۔ آپ یہ کہانی پڑھ کر حیران ہوں گے کہ کیا دُنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے؟ یا پھر جنگِ عظیم دوم میں جرمنی میں جنم لینے والے ایک انسانی المیہ کی کہانی جب ایک خاتون گارڈ اس جرم کی عمر قید بھگتنے پر تیار ہوجاتی ہے جو اس نے نہیں کیا ہوتا لیکن وہ راز ججوں کو نہیں بتا سکتی جو اسے رہائی دلا سکتے تھے۔ اسے اپنی عزتِ نفس اور جیل میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا اور اس نے جیل کا انتخاب کیا۔
میرے میانوالی کے بوڑھے دوست ڈاکٹر شیر افگن کے وہ لفظ برسوں بعد بھی دِل پر تِیر بن کر چُبھے ہوئے ہیں، جب انہیں بتایا گیا کہ وہ اب چند دنوں کے مہمان ہیں تو انہوں نے کہا، ”میرے پیارے پھر مجھے میرے گھر لے چلو، میں اپنے دوستوں کے درمیان مرنا چاہتا ہوں۔“ یا ملتان کا وہ نیک جیلر جس نے درجنوں بھارتی قیدیوں کو قتل ہونے سے بچا لیا تھا اور اگر اس رات وہ بھارتی قیدی ملتان کی جیل میں مارے جاتے تو شاید نوے ہزار پاکستانی فوجی جو اکہتر کی جنگ کے بعد بھارتی قید میں تھے، ان کی زندگیاں داؤ پر لگ جاتیں۔ ایک گمنام ہیرو کی کہانی آپ کو رُلا دے گی کہ کیسے بھارتی قیدیوں کی جانیں بچانے کے لیے جیلر تنی ہوئی بندوقوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گیا تھا۔
فیصل آباد کے ضیاء کی کہانی بھی آپ کو کافی دیر تک افسردہ رکھے گی۔ ایک ایسے باپ کی داستانِ غم جو مجھے اس وقت ملا جب اس کی زندگی کی سانسیں ٹوٹ رہی تھیں اور وہ جینے کا سہارا ڈھونڈ رہا تھا۔ جب اسے سہارا ملا، تب بہت دیر ہوچکی تھی۔ ملتانی کینٹین بوائے کی کہانی بھی کچھ ایسی ہے جو کبھی کبھار مجھے رات کو بے چین کر کے بستر سے اُٹھا کر بٹھا دیتی ہے۔ یا پھر آپ میرے عزیز طارق چودھری کا پہاڑ جیسا غم کیسے بھلا پائیں گے جسے ایک اور دریا کا سامنا تھا۔ لورالائی بلوچستان کے ایک ہندو گھرانے کی دُکھی داستان بھی انسان کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ انسانی بربریت سے نفرت کرے اور انسان کے اندر چھپی انسانیت سے محبّت کرے۔ آپ کو بلوچستان کے سُرخ، چٹیل اور بے رحم پہاڑوں میں جنم لینے والی اس دُکھ بھری کہانی میں جہاں خونخوار بھیڑیے ملیں گے وہیں محبت بھرے کردار بھی۔ اگر ایک لمحے آپ کا انسانیت سے اعتبار اُٹھے گا تو دوسرے لمحے آپ انسانیت سے پیار کرنے لگ جائیں گے۔
اس کتاب میں سب عام کہانیاں ہیں۔ آپ اگر بڑے لوگوں کی کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں تو پھر یہ کتاب آپ کے کام کی نہیں ہے۔ اس کتاب میں، مَیں نے عام انسانوں کے دُکھوں اور غموں کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرے ہیرو عام لوگ ہیں، وہی میرے رول ماڈل ہیں۔ میں نے خود اپنے ماں باپ کو ایک دُور دراز گاؤں میں اسی طرح مشکلات اور دُکھوں میں گھرے دیکھا۔ انہیں ساری عمر جدوجہد اور محنت کرتے دیکھا، انہیں مسلسل آزمائشوں کا شکار دیکھا، اس لیے شروع سے ہی میرے ہیرو وہی لوگ تھے۔ میں کسی بڑے آدمی سے متاثر نہ ہو سکا یا یوں کہہ لیں کہ ذِلتوں کے مارے لوگ ہی میری انسپائریشن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا انتساب میں نے گاؤں کے ایک کمہار چاچا میرو کے نام کیا ہے جس پر لکھی گئی ایک طویل کہانی آپ کو کئی دن چین سے نہیں سونے دے گی۔ یہ کہانی میری زندگی میں اتنی اہم ہے کہ اسی پہ کتاب کا نام رکھ دیا ہے۔ اس کتاب میں شامل ہر کہانی سچی ہے، یہ انسانی المیوں، دُکھوں اور غموں کی ایسی داستانیں ہیں جو ضرور آپ کے دل کو گداز کر دیں گی اور ہو سکتا ہے کہ کئی بار آپ کی آنکھیں بھی بھیگ جائیں۔
At Life Ease Store, we are committed to delivering your orders as quickly and efficiently as possible. Please take a moment to review our shipping policy below.
Shipping Timeframe
We aim to process and ship all orders within 3 to 5 business days. Delivery is available all over KSA
Shipping Charges
Shipping charges may vary depending on the size, weight, and location of the order. Any applicable charges will be displayed at checkout before you complete your purchase.
Order Tracking
Once your order has been shipped, you will receive a confirmation message along with tracking details (if applicable) to monitor the delivery status of your parcel.
Delivery Areas
We deliver to all major cities and towns across KSA. If you're unsure whether your area is serviceable, feel free to reach out to us for confirmation.
Contact Us
If you have any questions or concerns about your order or shipping details, please don’t hesitate to contact us:
- 📧 Email: tehreem.majid03@gmail.com
Thank you for shopping with Life Ease Store– your satisfaction is our priority!
At Life Ease Store, your satisfaction is our top priority. If you’re not completely happy with your purchase, we’re here to help!
Return Window
We gladly accept returns within 7 days of receiving your order.
Eligibility for Returns
To be eligible for a return:
- The item must be unused and in its original condition.
- It must be returned in the original packaging.
- Proof of purchase (order number or receipt) is required.
Non-Returnable Items
Certain items may not be eligible for return due to hygiene or safety reasons (e.g., opened food products, personal care items, etc.). Please contact us for clarification if needed.
Return Process
Contact our customer service team within 7 days of receiving your item.
Provide your order number and reason for the return.
We will guide you through the return procedure.
Shipping Costs
Return shipping costs are the responsibility of the customer unless the item was received damaged or incorrect.
Refunds
Once your return is received and inspected, we will notify you of the approval or rejection of your refund. Approved refunds will be processed promptly via your original method of payment or as store credit.
Contact Us
- 📧 Email: tehreem.majid03@gmail.com
Thank you for choosing Life Ease Store – we’re here to make your shopping experience as smooth and secure as possible!