CHEHRA BA-CHEHRA ROO BA-ROO چہرہ بچہرہ روبرو
- Rs.570.00
-
Regular price
Rs.950.00 -
-40%
CHEHRA BA-CHEHRA ROO BA-ROO چہرہ بچہرہ روبرو - hardback
جمیلہ ہاشمی کا ناول ’’چہرہ بچہرہ روبرو‘‘ محض نفسیاتی یا معاشرتی ناول نہیں بلکہ ایک تاریخی اور سوانحی ناول ہے جس کا مرکزی کردار قرۃ العین طاہرہ/ام سلمیٰ( فاطمہ زرّیں تاج) ہے، ایران کی بابی تحریک سے وابستہ ایک غیر معمولی شخصیت؛ جو رویا میں آنے والے زمانے کے کسی طاقت کے سر چشمے کی تاہنگ میں تھی۔ کربلا کی تمثیل سے آغاز پانے والے اور شہدائے کربلا کے غم میں رچے بسے بیانیے کے اس ناول میں مصنفہ نے انیسویں صدی کے ایرانی معاشرے، مذہبی تحریکوں اور ایک غیر معمولی عورت کی فکری و روحانی جدوجہد کو موضوع بنایا ہے۔ ایک ایسی غیر معمولی عورت جو اپنے علم، فصاحت، شاعرانہ صلاحیت اور فکری آزادی کے باعث اپنے عہد کی روایتی عورتوں سے بالکل مختلف تھی۔ وہ ایسے ماحول میں پروان چڑھی جہاں عورت کی علمی اور سماجی آزادی محدود تھی، مگر اپنے غیر معمولی علم و شعور کے باعث روایت کے بنائے ہوئے حصار کو توڑنے کی کوشش میں رہی اور ناول میں محض ایک تاریخی کردار کی بجائے حق کی تلاش، فکری آزادی اور روحانی اضطراب کی نمائندہ علامت ہو گئی۔ جمیلہ ہاشمی نے ناول میں قرۃ العین کی شاعری، خیالات اور روحانی بےقراری کو بڑی فنکاری سے پیش کیا ہے۔ مصنفہ نے ایران کے متوسط طبقے کی معاشرت، مذہبی فضا، رسم و رواج اور سیاسی حالات کو کہانی میں سمو دیا ہے۔ تاریخ یہاں محض پس منظر نہیں بلکہ کرداروں کی تشکیل اور واقعات کی معنویت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جمیلہ ہاشمی کے شاعرانہ اور علامتی اسلوب ، کرداروں کی داخلی کیفیات، مکالموں کی فکری گہرائی اورجزیات کے ساتھ منظرنگاری نےناول کو تخلیقی وقار عطا کیا ہے۔ خصوصاً قرۃ العین طاہرہ کے کردار کے ذریعے عورت کی فکری خود مختاری اور سماجی جبر کے خلاف مزاحمت کو نہایت موثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ناول اُردو کے اہم تاریخی اور فکری ناولوں میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔
(محمد حمید شاہد)
قرۃ الـــــعـــــین طــــاہــــرہ۔ جنابِ طاہرہ۔ زرّیں تاج۔ اُمِ سلمٰی۔ قزوین کی شاعرہ۔ وہ جو اپنے جمالِ خاص کی وجہ سے بھی معروف تھی۔ ایک عارفہ۔ بابی مذہبی تحریک کا ایک کلیدی کردار۔ عورتوں کے حقوق کی بےباک علمبردار۔ ایک واعظہ۔ ایک باحثہ۔ ایک عالمہ۔ حق اور سچ کی پُرشوق متلاشی۔ سوز اور غنائیت سے لبریز کلام کہنے والی۔ خالقِ کائنات سے چہرہ بچہرہ رو برو ہونے کے لیے ہر لمحہ مضطرب۔ ہر ساعت مشتاق۔ تخلیق کے ہوشربا رازوں سے پردہ اٹھانے کی شدّت سے خواہش مند۔ جاوید نامہ میں غالب اور حلّاج کے شانہ بشانہ۔ رومی اور اقبال سے فلکِ مشتری میں تصوّف کے ارفع معاملات پہ مکالمہ کرنے والی۔ سفرِ مدام سفر کا رستہ چننے والی۔ وہ جس کی نوائے طاہرہ نے عشقِ حقیقی کے رازدان اقبال کے دل پر انتہائی گہرا اثر چھوڑا۔ ایسے بلند روحانی مرتبے کے باوجود انیسویں صدی کے فارس میں بسنے والی یہ عظیم ہستی اسرار اور نسیان کے دھندلکوں میں کھو چکی ہے۔ جمیلہ ہاشمی کی یہ دل کو موہ لینے والی تحریر اس غیرمعمولی شخصیت، اس کے ہنگامہ خیز زمانے اور اس کی نہایت کٹھن فکری اور روحانی سرگزشت کی عمیق جستجو بھی ہے اور دل گداز روئیداد بھی۔ اور اپنائیت، عقیدت اور محبت میں گُندھا ہوا خراجِ عقیدت بھی۔ جمیلہ ہاشمی نے جس مہارت اور عمدگی سے تاریخ کے اس پیچیدہ اور نت نئی مذہبی تعبیرات، تحریکوں، فتنوں اور فسادات سے بھرپور دور اور قرۃ العین طاہرہ کے جذباتی، روحانی اور مابعد الطبیعیاتی مخمصوں، دبدھاؤں، وسوسوں اور اذیتوں کا احاطہ کیا ہے وہ انھی کا کمال ہے۔ طاہرہ جس بے مثال سوز، حزن اور انتہائے عشق کے اظہار کی بابت زندہ جاوید ہیں وہ کیفیت، شدّت اور جذبہ جمیلہ ہاشمی کی نثر میں سرایت کر کے اسے بھی آنے والے وقتوں کے لیے یادگار بنا دیتا ہے۔ اُردو ادب کے اس جوہرِ بیش بہا کی دل کش اشاعتِ نو اتنی ہی خوش آئند ہے جیسے کسی پُرمسرت بشارت کا ظہور۔
(اسامہ صدیق)
روہی، چہرہ بچہرہ رو برو، دشتِ سوس کی دنیا فنی لحاظ سے تلاشِ بہاراں، آتشِ رفتہ، آپ بیتی جگ بیتی اور اپنا اپنا جہنم سے مختلف دنیا ہے۔ آتشِ رفتہ، تلاشِ بہاراں، اپنا اپنا جہنم، آپ بیتی جگ بیتی کی دنیا برصغیر ہی کے لوکیل (Locale) سے تعلّق رکھتی ہیں۔ روہی سے چہرہ بچہرہ رو برو، ہر چند کہ نئی کہانی ہے، نئی تاریخ ہے، نئی لینڈ سکیپ ہے لیکن روہی میں جس زندگی کی تڑپ ہے وہ قرۃ العین طاہرہ کے روپ میں جلوہ گر ہوئی۔
(محمد علی صدیقی)
’’چہرہ بچہرہ رو برو‘‘ اس طور اُردو کے بڑے تاریخی ناولوں سے الگ ہے کہ ان میں عموماً ناول نگار ایک وسیع کائنات میں کھڑا ہو کر دیکھتا ہے کہ تاریخ کس طرح انسانوں کی اٹل تقدیر بن گئی ہے۔ یہاں جمیلہ ہاشمی نے ایک جہت کا اضافہ یہ کیا کہ کردار کے داخل سے اس بات کا مطالعہ کیا ہے کہ موجود تاریخ کس طرح ایک شخصیت کی تعمیر میں شامل ہوتی ہے اور پھر کیسے اس کی کیمیاوی ہیئت بدل جاتی ہے اور ایک انسانی میڈیم سے گزرنے کے بعد اس کی ساخت کیا ہوتی ہے۔ اس سارے عمل کے مطالعے کے لیے بہت چھوٹی چھوٹی لکیروں سے منظر بنائے گئے ہیں، مرتکز اور تاثر کے نقطے خلق کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب کردار اور تاریخ کے رشتے کے مطالعے کی حیثیت سے تو خیر بہت اہم ہے ہی، اُردو ناولٹ کی رَو میں ایک منفرد اضافہ بھی ہے اور خود جمیلہ ہاشمی کے ہاں فن کی ایک نئی اور انوکھی سطح۔
(سراج منیر)
Thank you for shopping at Books Haven Store.
Order Processing
Orders are prepared after confirmation, subject to stock availability.
Delivery Areas
We deliver across Pakistan.
Delivery Time
Delivery takes 3–5 working days.
Shipping Charges
Applicable delivery charges will be communicated before your order is finalized.
Delivery Issues
If your parcel is delayed, damaged, or missing, please contact us at 03054045607 or aayatonlinebooksstore@gmail.com.
At Books Haven Store, we want you to be satisfied with your purchase.
Damaged, Defective, or Incorrect Books
If you receive a damaged, defective, or incorrect book, please contact us with your order number, a description of the issue, and photographs where possible.
Return Requests
Return eligibility, deadlines, and conditions depend on the return terms confirmed for your order and applicable consumer law.
Refunds
Where a refund is approved or required by law, we will explain the refund method and expected processing time.
Return Shipping
Any applicable return-shipping charges will be explained before a return is arranged.
Contact Us
Phone: 03054045607.
Email: aayatonlinebooksstore@gmail.com.