Azadi e Hind - آزادی ہند
Pages: 310
Category: Biography
Urdu Translation of India Wins Freedom
’’انڈیا ونس فریڈم‘‘ نے آخرکار خود اپنی آزادی جیت لی۔ اس خودنوشت بیانیے کا مکمّل متن، مہربند کرکے نیشنل لائبریری کلکتہ اور نیشنل آرکائیوز نئی دہلی میں تیس برس تک محصور رکھا گیا۔ 1958ء میں ’’راوی‘‘ مولانا ابوالکلام آزاد اور ’’راقم‘‘ ہمایوں کبیر نے اشاعت کے لیے ایک قدرے مختصر اور نظرثانی شدہ مسودہ پیش کیا تھا جس میں سے ایسے واقعات اور تاثّرات جو بالخصوص ذاتی نوعیت کے تھے، الگ کر دیے گئے تھے۔ اشاعت کے پہلے ہی سال میں اس مسودے کے تین بڑے ایڈیشن نکلے اور اس وقت سے یہ بارہا شائع کیا جا چکا ہے۔ اب ہمارے سامنے مکمّل متن ہے جسے ایک عدالتی ہدایت کے ذریعے ستمبر 1988ء میں رہائی ملی۔ نہ صرف یہ کہ اصل عبارت کے تمام الفاظ اور فقرے جوں کے توں پیش کر دیے گئے ہیں بلکہ عبارت کا اصل لہجہ اور مزاج بھی پوری طرح بحال کر دیا گیا ہے۔ یہ متن اب اس امر کا انکشاف کرتا ہے کہ اب تک کے غیرشائع شدہ صفحات کے بارے میں بہت مدّت سے جو قیل و قال جاری تھی، وہ پوری طرح حق بجانب تھی۔ جنھوں نے پرانا ایڈیشن پڑھ رکھا ہے انھیں ایسے نکات کا اندازہ فوراً ہو جائے گا جن کے باعث یہ بیانیہ سابقہ بیانیے سے مختلف ٹھہرتا ہے۔
Urdu Translation of India Wins Freedom
مولانا ابو الکلام آزاد (1888ء-1958ء) کا نام پیدائش پر فیروز بخت رکھا گیا، مگر جوانی میں وہ محی الدین احمد کے نام سے جانے گئے اور اُس کے بعد انھوں نے ابو الکلام آزاد کا قلمی نام اختیار کیا۔ آبائی وطن دہلی، مادری وطن مدینہ منورہ، مولد مکّہ مکرّمہ۔ پانچ بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ دس برس کی عمر میں والدین کے ہمراہ کلکتے آئے۔ تعلیم گھر ہی میں ہوئی۔ آزادؔ کے والد مولانا خیرالدین ہر علم میں کوئی مختصر متن حفظ کرا دیتے تھے۔ 1900ء میں فارسی کی تعلیم مکمل کر لی۔ 1903ء میں درسِ نظامیہ سے فارغ ہو گئے۔ گیارہ برس کی عمر میں شعر کہنے لگے۔ پہلی تقریر بارہ برس کی عمر میں کی۔ اکتوبر 1905ء سے مارچ 1906ء تک رسالہ ’’الندوہ‘‘ کے مدیر رہے۔ کچھ مدّت اخبار ’’وکیل‘‘ امرتسر کے ایڈیٹر رہے۔ 13جولائی 1912ء کو کلکتے سے اپنا ہفت روزہ ’’الہلال‘‘ نکالا۔ پہلی جنگِ عظیم کے متعلّق بعض مضامین کی بنا پر 16 نومبر 1914ء کو ضمانت ضبط ہونے سے ’’الہلال‘‘ بند ہو گیا تو 13 نومبر 1915ء کو ’’البلاغ‘‘ جاری ہوا۔ حکومت نے ’’البلاغ‘‘ اور اُن کا دینی ادارہ ’’دارالارشاد‘‘ ڈیفنس ایکٹ کے تحت بند کر دیا اور مولانا کو رانچی (صوبہ بہار) میں نظر بند کر دیا گیا۔ جنوری 1920ء میں نظربندی سے رہا ہوئے تو ملک میں آزادی اور تحفظِ خلافت کی تحریکیں شروع ہو رہی تھیں۔ اب مولانا نے پُوری توانائی سے عملی سیاست کو اختیار و قبول کر لیا۔ 10دسمبر 1921ء کو گرفتار کر کے اُن پر مقدمہ چلایا گیا اور ایک سال کی قید کی سزا دی گئی۔ اِسی مقدمے میں وہ بیان دیا جو ’’قولِ فیصل‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ دو مرتبہ کانگرس کےصدر بنے۔ 1933ء کے بعد چار مرتبہ قید ہوئے۔ 1947ء میں حکومتِ ہند کے وزیرِ تعلیم بنے اور تاحیات اس عہدے پر فائز رہے۔ 22 فروری 1958ء کو اُن کا انتقال ہوا اور انھیں جامع مسجد دہلی کے باہر، میدان میں دفن کیا گیا۔
زیادہ مشہور تصانیف یہ ہیں: ترجمان القرآن، غبارِ خاطر، انڈیا وِنز فریڈم (اُردو: آزادیٔ ہند)، تذکرہ، قولِ فیصل، اُم الکِتاب، انسانیت موت کے دروازے پر، کاروانِ خیال، حیاتِ سرمد، اصحابِ کہف اور یاجوج ماجوج، البیرونی اور جغرافیۂ عالم، ہجر و وصال۔
ہمایوں کبیر (1906ء-1969ء) کلکتہ اور آکسفرڈ یونیورسٹی میں ایک ممتاز تعلیمی کیریئر کے بعد وہ پہلے والٹیئر کے مقام پر آندھرا یونیورسٹی میں، اور پھر کلکتہ یونیورسٹی میں لیکچرر کی حیثیت سے 1933ء تا 1945ء کام کرتے رہے۔ 1937ء میں انھیں بنگال لیجسلیٹو کونسل کے لیے کسان پارٹی کے قائد کی حیثیت سے منتخب کر لیا گیا۔ 1946ء میں آزاد نے ان کا انتخاب اپنے سیکریٹری کے طور پر کیا۔ چنانچہ آزاد سے ان کا قریبی تعلق رہا۔ حکومتِ ہند کے مشیرِ تعلیم کی حیثیت سے وہ 1956ء تک کام کرتے رہے، پھر وہ مستعفی ہو گئے اور 1957ء میں وہ کانگریس پارٹی کے ایک رکن کی حیثیت سے پارلیمینٹ کے لیے چُن لیے گئے۔ انھیں (1957ء-1958ء) وزیر برائے شہری ہوابازی، (1958ء-1963ء) وزیر برائے سائنسی تحقیقات اور ثقافتی امور اور (1963ء تا 1968ء) وزیر برائے پٹرولیم اور کیمیکلز مقرر کیا گیا۔ انگریزی اور بنگلا زبانوں میں وہ بیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں جو فلسفے، ادبیات، سیاسیات اور ثقافت کے موضوعات پر سپردِ قلم کی گئیں۔ ان کے دو ناول اور تین شعری مجموعے بھی شائع ہوئے۔
شمیم حنفی (17 مئی 1938ء) اُردو کے ایک معروف نقّاد، ڈراما نگار، مترجم اور شاعر ہیں۔ سلطان پور (یو پی) میں پیدا ہوئے اور ابتدائی زندگی وہیں پر گزاری۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے ایم اے اُردو اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں ستیش چندردیب، فراق گورکھپوری، سید احتشام حسین اور سید اعجاز حسین ایسے صاحبانِ علم و فضل شامل تھے۔ چھ برس علی گڑھ یونیورسٹی میں تدریس سے متعلق رہنے کے بعد 1976ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ہو گئے، جہاں 2003ء میں اپنی ریٹائرمنٹ تک پڑھایا۔ اس کے بعد سے اسی تعلیمی ادارے میں پروفیسر ایمریطس کی حیثیت سے منسلک ہیں۔ شمیم حنفی کاشمار عہدِ حاضر کے اہم ترین ناقدین میں ہوتا ہے۔ ان کی تنقید بھی اپنے ہم عصروں سے کئی سطحوں پر مختلف ہے۔ ان کے یہاں تنقید لکھنے کا عمل ایک معنی میں وسیع تر تخلیقی سرگرمی سے عبارت ہے۔ فن پاروں کے اسرار تک پہنچ جانے کی جو چند مثالیں اُردو تنقید میں ملتی ہیں ان میں شمیم حنفی کی تحریریں بھی شامل ہیں۔ ایک گہرا وجودی طرزِ فکر و احساس ان کی تحریروں کی شناخت کے طور پر ابھرتا ہے۔ ان کے اُردو تراجم میں زیرِنظر کتاب کے علاوہ ’’قومی یکجہتی اور سیکولرازم‘‘ (ڈاکٹر تارا چند کے خطابات)، ’’یادوں کا اُجالا‘‘ (ڈاکٹر بھگوان سنگھ کی خودنوشت)، ’’شہرِ خُوں آشام‘‘ (معاصر بنگالی زبان کی شاعری)، ’’منتخب تحریریں: جدوجہد کے سال‘‘ (پنڈت جواہر لعل نہرو کی تحریر "Years of Struggle" کا ترجمہ) شامل ہیں۔ شمیم حنفی ایک شاعر، نقّاد، ڈراما نگار اور مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ کئی عملی فنون، مصوّری، کمہار کے فن وغیرہ میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
At Life Ease Store, we are committed to delivering your orders as quickly and efficiently as possible. Please take a moment to review our shipping policy below.
Shipping Timeframe
We aim to process and ship all orders within 3 to 5 business days. Delivery is available all over KSA
Shipping Charges
Shipping charges may vary depending on the size, weight, and location of the order. Any applicable charges will be displayed at checkout before you complete your purchase.
Order Tracking
Once your order has been shipped, you will receive a confirmation message along with tracking details (if applicable) to monitor the delivery status of your parcel.
Delivery Areas
We deliver to all major cities and towns across KSA. If you're unsure whether your area is serviceable, feel free to reach out to us for confirmation.
Contact Us
If you have any questions or concerns about your order or shipping details, please don’t hesitate to contact us:
- 📧 Email: tehreem.majid03@gmail.com
Thank you for shopping with Life Ease Store– your satisfaction is our priority!
At Life Ease Store, your satisfaction is our top priority. If you’re not completely happy with your purchase, we’re here to help!
Return Window
We gladly accept returns within 7 days of receiving your order.
Eligibility for Returns
To be eligible for a return:
- The item must be unused and in its original condition.
- It must be returned in the original packaging.
- Proof of purchase (order number or receipt) is required.
Non-Returnable Items
Certain items may not be eligible for return due to hygiene or safety reasons (e.g., opened food products, personal care items, etc.). Please contact us for clarification if needed.
Return Process
Contact our customer service team within 7 days of receiving your item.
Provide your order number and reason for the return.
We will guide you through the return procedure.
Shipping Costs
Return shipping costs are the responsibility of the customer unless the item was received damaged or incorrect.
Refunds
Once your return is received and inspected, we will notify you of the approval or rejection of your refund. Approved refunds will be processed promptly via your original method of payment or as store credit.
Contact Us
- 📧 Email: tehreem.majid03@gmail.com
Thank you for choosing Life Ease Store – we’re here to make your shopping experience as smooth and secure as possible!