{"product_id":"aaina-haaye-khud-shanasi-muhammad-hamid-zaman","title":"Aaina Haaye Khud Shanasi - Muhammad Hamid Zaman","description":"\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003eسفر ایک شفیق استاد بھی ہے، اور مانندِ غزل، دیرینہ احساسات کا ایک سلسلہ بھی۔ غزل چاہے کتنی ہی باکمال کیوں نہ ہو، اس کا کوئی ایک شعر یا ایک مصرع باقی مصروں کی نسبت دل پر زیادہ گہرے نقوش ثبت کر جاتا ہے۔ استاد کی شفقت سے عمر بھر بہرہ مند ہونے کے باوجود کچھ لمحاتِ تلمذ باقی تمام لمحات کے مقابلے میں زیادہ بااثر ہوتے ہیں۔ اس مجموعے میں شامل مضامین انہی لمحات اور انہی مصرعوں کی سرگزشت ہیں جن سے مجھے اپنے آپ کو پہچاننے کا موقع ملا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: left;\"\u003eمحمد حامد زمان\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em;\"\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003eآئینہ ہائے خود شناسی کی تحریر میں وابستگی بھی ہے اور اضطراب بھی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003eحامد زمان کے الفاظ محبت سے کھرچتے ہیں، ان کو بھی، اور قاری کو بھی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003eچاہے بوسنیا ہو یا قاہرہ یا پھرویٹیکن، ہر مقام پر اس کتاب سے مجھے تاریخ اور تجربہ کا خوش پذیرامتزاج ملا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em;\"\u003eمنان آصف\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em;\"\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003eمحمدحامد زمان جسم کے سفر میں درپیش پڑاؤ کو روح کے سفر میں قطب نما کے طور  پر یوں استعمال کرتے ہیں کہ کثافتیں لطافتوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں، مبہم علامتیں واضح سنگ میل نظر آتی ہیں اور مسافرت ایک آفاقی آدرش میں ڈھل جاتی ہے۔ ان کے سفرنامے انسانی تجربے کی پیچیدگیوں سے نبردآزمائی، دوئیوں میں بٹی دنیا میں کسی نادیدہ اکائی کی کھوج اور کثرت میں سے مسلسل وحدت برآمد کرتے رہنے کی کاوشیں ہیں۔ حامد زمان کی انگلی پکڑ کر سفر میں ان کے ساتھی بنیں تو گرین لینڈ کے سفید جزیرے، وہیل مچھلیاں، مجسمے، عجائب گھروں کے کمرے، مسجدوں اور کلیساؤں کے بُرج منارے، عالمی معاشی اداروں کی پر شکوہ عمارات، سرنگیں،سیاسی انقلابوں سے منسلک چوک اور مقبرے محض ’’جگہیں‘‘ نہیں رہتیں بلکہ ایسی مکانی علامات میں تبدیل ہو جاتی ہیں جو لمحہ ٔ موجود میں وارد ہونے والی جذبات و احساست کی کیفیات سے منسلک ہیں۔یہ خوبصورت عکس جو مسافر کے لیے آئینہ ہیں، قاری کے لیے کبھی تو حیرت کا سامان ہیں اور کبھی علم و آگہی کا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003eاگر آپ کے اندر بھی ایک مسافر کی روح ہے تو حامد زمان کی بنائی گئی ہر تصویر آپ کو اپنے کان میں سرگوشی کرتی محسوس ہو گی جس کے معنی اس پڑاؤ پر منحصر ہیں جو یا توآپ کے روحانی سفر میں کہیں نہ کہیں آپ کا منتظر ہے یا پھر آپ کی یاداشت کی تہوں میں دفن۔مجھے تو یہ ایک تاؤ اصول کی آفاقیت کا اظہار معلوم ہوئی۔ یوں لگا جیسے کوئی قدیم چینی روح میرے کان میں کہہ رہی ہو: تم دس ہزار چیزوں کو کھوجتے ہو جو اپنی اصل میں ایک ہی ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em;\"\u003eعاصم بخشی\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em;\"\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003eدنیا تو رنگا رنگ ہے ہی۔ لیکن کوئی بھی سفرنامہ، سفرنامہ نگار کی شخصیت اور زاویہِ نظر کے باعث ہی یا تو منفرد اور یادگار بن جاتا ہے یا پھر قابل فراموش۔ ڈاکٹر حامد زمان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک اعلی درجے کے عالم اور سائنس دان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شاعر کا سا حساس دل بھی رکھتے ہیں۔ چنانچہ ان کی جہاں گردی کی اس روداد میں جہاں ہمیں اہم کتابوں، افکار اور تاریخی شخصیات، مقامات اور واقعات پر ان کی گہری سوچ کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ وہیں اس بے مثال کرہ ارض کی رعنائیوں کے لطف سے لبریز ایک سرشاری بھی۔ ان کا اندازِ بیاں بے حد شستہ، دلکش، رواں اور ظرافت سے بھرپور ہے۔ سفر واقعی ایک سوچنے والے شخص کو اپنے اندر دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ لیکن یہ سفرنامہ آئینہ ہائے خود شناسی ہونے کے ساتھ ساتھ آئینہ ہائے انسان شناسی بھی ہے۔ جس میں انسان کی اساس کو سمجھنے کی مسلسل جستجو بھی ہے۔ اس کی حالتِ زار کے لیے درد اور احساس بھی۔ اور اس کے مستقبل کے بارے میں ایک گہری فکر بھی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: left;\"\u003eاسامہ صدیق\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: left;\"\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eTitle: Aaina Haaye Khud Shanasi\u0026gt; - آئینہ ہائے خود شناسی\u003cbr\u003eAuthor: Muhammad Hamid Zaman - محمد حامد زمان\u003cbr\u003eSubject: Travel, Essays, Travelogue\u003cbr\u003eISBN: 9693534921\u003cbr\u003eLanguage: Urdu\u003cbr\u003eNumber of Pages: 160\u003cbr\u003eYear of Publication: 2023\u003c\/p\u003e","brand":"Sang-e-meel Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":52897512915175,"sku":"9693534921","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0812\/2489\/2647\/files\/image_7ff2b13e-71aa-4a91-8d70-d124a6118c94.jpg?v=1792728287","url":"https:\/\/bookshaven.shop\/products\/aaina-haaye-khud-shanasi-muhammad-hamid-zaman","provider":"My Store","version":"1.0","type":"link"}